Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
USD900.00 USD943.00

Pay in 4 interest-free payments of $225.00 Learn more

Woh Shama Ujala Jiss Nay Kiya - وہ شمع اجالا جس نے کیا shakel ada zada and The Journal of South

SKU: 75438245384
4.3

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 14 - Aug 19

Description

and The Journal of South Asian and Middle Eastern Studies

Pages: 416

ان قصوں میں کردار بھی ہیں، واقعات بھی، آپ بیتی بھی اور جگ بیتی بھی، جسمانی خواہشات سے متعلق تلذذانگیزی بھی ہے اور روحانی کیفیات کا حال بھی، رُوح کو چھونے والے انفرادی المیے بھی اور طبقاتی تقسیم کی پیدا کردہ معاشرے کی اجتماعی بےبسی کی تصویریں بھی، بھارتی فلموں میں دکھائے جانے والے انڈر ورلڈ سے ملتے جلتے کردار بھی اور اقدار کے نوحوں کے پہلو بہ پہلو رفعت افکار بھی۔ اس کے مختلف ابواب کے درمیان ایک مخصوص نوع کا تسلسل بھی ہے اور بےربطیٔ گفتار بھی لیکن مجھے اس کتاب کی جس خوبی نے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ اس کی اپنے آپ کو پڑھوانے کی غیرمعمولی قوت اور صلاحیت ہے جو میرے نزدیک کسی بھی اچھی تحریر کا جزو اعظم ہوتی ہے۔ اس کتاب کی ایک اور اہم اور قابلِ ذکر خوبی مصنّف کی اپنے موضوع اور اس کے متعلقات پر ماہرانہ گرفت ہے کہ وہ ہر واقعے اور کردار کی جزئیات کو اس طرح سے بیان کرتے ہیں کہ چیزیں، کردار اور منظر آپس میں گڈمڈ نہیں ہوتے۔ کردار نگاری اور منظر نویسی میں انھیں ایک خاص ملکہ حاصل ہے، وہ ایک عمدہ سکرین پلے رائٹر اور باریک بین ڈائریکٹر کی طرح کسی چھوٹی سے چھوٹی تفصیل کو بھی نظر انداز نہیں کرتے۔ تفصیل کی گنجائش نہیں لیکن یہ بات میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ جب آپ یہ کتاب پڑھیں گے تو یقیناً ان کے اس ہنر سے بہت لطف اندوز ہوں گے۔ (امجد اسلام امجد) ’’جسے رات لے اڑی ہوا‘‘ پڑھنے کے بعد مجھے مصنّف کے مشاہدے سے خوف، ان کی معلومات اور مطالعے پر رشک آیا۔ کتاب بےحد دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ عجیب و غریب کرداروں کا ایک حسین مرقع ہے جو ہمارے اردگرد موجود ہونے کے باوجود نظروں سے اوجھل ہیں۔ سرکاری ملازم تو ہم بھی رہے مگر دیوان صاحب نے شریک کار ہونے کے دوران انھیں کب دیکھا اور برتا، یہ بات ہمارے لیے باعثِ حیرانی ہے۔ (محترمہ مہتاب اکبر راشدی) ایسا شاذ و نادر ہی ہوا ہوگا کہ ہم نے فٹ بال کا کوئی عمدہ میچ ٹی وی پر چھوڑا ہو، وہ بھی ورلڈ کپ فٹ بال ٹورنامنٹ کے دنوں میں، ذرا مشکل سی بات ہے۔ یہ ظلم ہم پر دیوان صاحب کی کتاب نے کیا اور خوب کیا۔ کتاب ایک دفعہ شروع کی تو رکھنے کو دل نہ چاہا۔ اس کی معلومات، اس کے کردار اور اُن کی بوقلمونیاں ایک عجب نیرنگِ تماشا ہے۔ اب تک یہ کتاب ہم نے تین دفعہ پڑھی ہے اور شناخت پریڈ جاری ہے۔ (عبید اللہ بیگ) دیوان صاحب نے جو انکشافات اس کتاب میں کیے ہیں وہ ہم جیسے کھوجیوں کے لیے بھی چونکا دینے والے اور دلچسپ ہیں۔ ان کی وقائع نگاری میں دسترس کو دیکھ کر ہم نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ وہ ایک بند گلی کی بند زبان اور بےلگام مغرور اور علم دشمن بیوروکریسی کے ممبر ہیں، اگر وہ بھولے بھٹکے سے کوچۂ صحافت کی طرف آجاتے تو بہت سوں کو لینے کے دینے پڑجاتے۔ (نذیر لغاری- ایڈیٹر عوام)

Author: Alexander Gray

سچ بات یہ ہے کہ ’’کاغذی ہے پیرہن‘‘ عصمت چغتائی کی ’’یادوں کی بارات‘‘ ہے۔ وہ کہہ چکی ہیں کہ وہ اپنی یادداشت اور خاندان کے لوگوں کی زبانی سنی سنائی باتوں کو جیسے جیسے انھیں یاد آتا جائے گا، جیسا ان کا جی چاہے گا قلم بند کرتی جائیں گی اور انھوں نے یہی کیا۔ نہ تسلسل کی پروا کی نہ اسے ناول بنانے کی اور یہ بھی ان کے حق میں اچھا ہی ہوا۔ دراصل اس کتاب کاپورا مواد خود نوشت ہی کے لیے مناسب ہے۔ اسے ناول بتائے جائیں تو ناول تو بنتا نہیں اور خودنوشت بھی ہاتھ سے نکل جاتی۔ عصمت ہماری بہت مقبول، بہت مشہور، ایک جغادری مصنفہ ہیں۔ لیکن ان کی صحیح قدر آج بھی پہچانی نہیں جاتی۔ دقیانوسی ادیبوں کا ایک بڑا حلقہ ہے جو آج بھی انھیں محض ’’لحاف‘‘ اور ’’تل‘‘ کی مصنفہ کے طور پرجانتا ہے۔ وہ ان کی بے باکی اور بغاوت سے خوش نہیں ہے۔ اس پر ستم ظریفی یہ ہوئی کہ اُردو تنقید نے ان پر وہ توجہ نہیں کی جس توجہ کی وہ مستحق تھیں۔ انھیں ایک بھی ایسا معتبر نقّاد نہیں ملا جو انھیں سمجھ اور سمجھا سکے اور ان کے فن کی بلندیوں کا احاطہ کر سکے۔ میرا خیال ہے کہ ’’کاغذی ہے پیرہن‘‘ کی کتابی صورت میں اشاعت سے عصمت کی شخصیت میں ایک نئی دلچسپی کا آغاز ہو گا اور اگر اس کا مطالعہ صحیح ڈھنگ سے کیا گیا تو ان کے متعلق بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ بھی ہو جائے گا کیوںکہ ان صفحات سے عصمت کا جو کردار ابھرتا ہے وہ اپنے پیروں پر آپ کھڑی ہونے والی، جدید تعلیم یافتہ عورت کا کردار ہے جو مردانہ برتری کے تعصّبات، عورت کی طرف مذہبی تنگ نظری کی زائیدہ افترا پردازیوں، دقیانوسیت لکیر کی فقیری، رسم و رواج کی غلامی، جہالت، غربت او رتوہمات کی ماری ہوئی ہماری دیمک زدہ زندگی کے کسی ایک پہلو سے بھی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔

Woh Shama Ujala Jiss Nay Kiya - وہ شمع اجالا جس نے کیا shakel ada zada and The Journal of SouthPages: 255 Category: Islam, Sufism

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products