Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
USD275.00 USD325.00

Pay in 4 interest-free payments of $68.75 Learn more

Paras by Rukhsana Nigar Adnan - پارس conduct of غسّان کنفانی 9 اپریل 1936ء

SKU: 6255336501
4.3

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 13 - Aug 18

Description

غسّان کنفانی 9 اپریل 1936ء کو شمالی فلسطین کے شہر عکّا میں پیدا ہوئے۔ 1948ء کی جنگ اور تباہی، ان کے لڑکپن کی یادوں کا ایک حصّہ بن گئی جس کے نتیجے میں ان کے خاندان کو جلاوطن ہونا پڑا۔ یہی وہ تجربہ ہے جس نے ان کی افسانوی کائنات کو رنگ روپ دیا۔ کچھ وقت دمشق میں رہنےکے بعد وہ کویت چلے گئے اور وہاں پڑھاتے رہے۔ 1959ء میں وہ بیروت آ گئے اور آزادیٔ فلسطین کے لیے کام کرنے والی جماعت ’’پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف پیلسٹائن‘‘(PFLP) کے ترجمان بن گئے۔ تبھی انھوں نے ’’الہدف‘‘ نامی روزنامہ اخبار کا اجرا کیا اور موت تک اس کے مدیرِ اعلٰی رہے۔ یہ دَور ان کی صحافت اور ادبی تخلیق کے لحاظ سے بہت زرخیز ہے۔ 1961ء میں غسّان کی ملاقات ڈنمارک کی ایک استانی اینی ہوور سے ہوئی جو اپنے وطن سے فلسطینی پناہ گزینوں کی صورتِ حال کا جائزہ لینے آئی تھی۔ دو مہینے بھی گزرنے نہ پائے تھے کہ وہ رشتۂ ازدواج میں بندھ گئے۔ تاہم باہر کی دُنیا کے حالات غسّان کے لیے سازگار نہیں تھے۔ چونکہ ان کے پاس کسی ملک کا پاسپورٹ بھی نہیں تھا، وہ 1962ء کے اوائل میں ’’زیرِ زمین‘‘ جانے پر مجبور ہو گئے۔ روپوشی کے ان ایام کے دوران انھوں نے اپنا معرکہ آرا ناول ’’رجال فی الشمس‘‘ تحریر کیا اور اسے اپنی اہلیہ اینی کے نام منسوب کیا۔ جب اگلے سال اس کی اشاعت عمل میں آئی تو عربی ادب کی دُنیا میں تہلکہ مچ گیا اور غسّان کے لیے فوری اور وسعت گیر شہرت اور تعریف و تحسین کا باعث بنا۔ اب بھی لوگوں کی ایک کثیر تعداد اسے اس کی بہترین تخلیق قرار دیتی ہے۔ 1973ء میں مصری فلم ڈائریکٹر توفیق صالح نے غسّان کے اس ناول پر ’’المخدوعون‘‘ نامی فلم بنائی جس کی نمائش پر کئی عرب ممالک میں پابندی لگا دی گئی۔ 1978ء میں یہ ناول "Men in the Sun" کے نام سے انگریزی میں ترجمہ ہوا۔ شاہد حمید نے اس کا اُردو ترجمہ ’’دُھوپ میں لوگ‘‘ کے عنوان سے کیا۔ یہ ترجمہ سب سے پہلے ’’محراب‘‘ لاہور میں شائع ہوا اور بعدازاں کتابی شکل میں بھی چَھپا۔

and history writing

How modern Europe transformed ancient banking practices to create central banking

خپلو ، شگر ، گانچھے ، کوروفون ، منٹھو کھا اور شمال کے آخری گاؤں کا سفر نامہ

کسی بھی ناول نگار کے لئے اپنے معاشرے اور اسکے معاملات کو فکشن میں پیش کرنا سہل نہ سہی مگر مشکل بھی نہیں ہے۔ وہ فکشن نگار جو اپنے ناول میں تخیل کی آنچ سے ایک نئی دنیا آباد کرے جو اسکی موجودہ دنیا جس میں وہ رہ رہا ہے اس سے مختلف ہو یقیناً ایک اہم واقعہ ہے۔ رفعت عباس نے یہی کارنامہ کیا ہے۔ ایک ایسے شہر کی تخلیق جو چار ہزار قبل مسیح میں سانس لیتا ہے، اس شہر کا نام “لونڑی” ہے جو لفظ لُون یعنی نمک سے نکلا ہے۔ نمک مقامیت کو پیش کرتا ہے۔ یہاں کے لوگ ناٹک کھیلتے ہیں، سوانگ رچاتے ہیں۔ شیشے بناتے ہیں، یہاں بادل گاڑیاں ہیں۔ یہاں کسی انسان کو موت نہیں آتی۔ یہاں کے شہریوں کے پاس نہ خدا ہے اور نہ ہی جنگی آلات۔ ناٹک گھر اس شہر کی پارلیمنٹ ہے۔ وہ اپنے اور اس شہر کے تمام فیصلے ناٹک کے ذریعے کرتے ہیں۔ انہوں نے اسی ناٹک گھر میں موت کیساتھ کھیل کھیلا اور اسے شکست دی۔ ناول کی کہانی “لونڑکا” کی گمشدگی سے شروع ہوتی ہے۔ وہ لونڑی شہر کا ایک عام سا شہری ہے اور ایک دن اچانک کھو جاتا ہے۔

Paras by Rukhsana Nigar Adnan - پارس conduct of غسّان کنفانی 9 اپریل 1936ءPages: 304 Category: Novels Urdu Novel Paras, Rukhsana Nigar Adnan, terrific social reformal novel, high moral lessons, teenage girl living luxurious life, short cuts to become rich, ugly aspects and angles of life, story of human emotions, flirting, cheating, deceiving, lust and love, expose the true reality of high society and burger families. different story.

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products

Shimano
Shimano

US$ 25.23

Min. order: 1 piece

4.2 (12 reviews)

Sold : Login>>